ذات شریف

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - چالاک، شریر، فتنہ انگیز، مفسد، (طنزاً) بد ذات کو کہتے ہیں۔ "یہ ذاتِ شریف (نائی) شادی بیاہ میں تھوڑی سی رقم پر راضی نہیں ہوتی بلکہ معقول رقم لے کر ہی ٹلتی ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، پٹھانوں کے رسم و رواج، ١٠٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسمِ جامد 'ذات' کے ساتھ عربی ہی سے مشتق اسمِ صفت 'شریف' لگانے سے مرکب توصیفی بنا۔ (ذات موصوف اور شریف صفت)۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٣٧ء کو "مجموعہ ہشت قصہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چالاک، شریر، فتنہ انگیز، مفسد، (طنزاً) بد ذات کو کہتے ہیں۔ "یہ ذاتِ شریف (نائی) شادی بیاہ میں تھوڑی سی رقم پر راضی نہیں ہوتی بلکہ معقول رقم لے کر ہی ٹلتی ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، پٹھانوں کے رسم و رواج، ١٠٤ )